تاریخ ، جغرافیہ اور رہن سہن

جغرافیہ

Norge i Verden

“ناروے د نیا میں “

ناروے کا رقبہ 199 385 سکوائر کلو میٹر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناروے تھائی لینڈ ،عراق ،ترکی اور صومالیہ سے چھوٹا ہے۔ ناروے کی خصوصیّت یہ ہے کہ یہ ایک لمبا اور چھوٹا ملک ہے۔ اوسلو اور پیرس میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ اوسلو اور تھرومسو میں۔

ناروے شمال میں واقع ہے جو ناروے، سویڈن ،ڈنمارک ،فن لینڈاور آئس لینڈ پر مشتمل ہے۔ ناروے سویڈن اور ڈنمارک کے ساتھ مل کر سکینڈے نیویا بھی بنتا ہے۔
ناروے کی سرحدیں سویڈن ، فن لینڈ اور روس کے ساتھ ملتی ہیں۔

ملک کے مختلف حصّے

ناروے پانچ حصّوں میں بٹا ہؤا ہے، شمالی ناروے، تھروندےلاگ، ویست لاندے، سورلاندے اور اوست لاندے۔

اضلاع

ناروے میں 18 اضلاع ہیں۔ ان کی تقسیم ملک کے مختلف حصوں میں یوں ہے:
شمالی -ناروے: فِن مارک ،تھرومس اور نورد لاند
تھروندے لاگ: تھروندے لاگ
ویست لاندے : مورے و رومسدال، سوگن و فیوردانے، ہوردالاند و روگالاند
سورلاندے : ویست آگدر اور آؤست آگدر
اوست لاندے :تیلے مارک، بْسکےرْود، ویست فولد،آکرس ہْوس، اوسلو، اوست فولد، ہید مارک اور اوپّ لاند

Norgeskart og flagg

شہر

ناروے میں تقر یباً ایک سو شہر ہیں۔ اوسلو واضح طور پر سب سے بڑا ہے آبادی تقریباً . 000 600
یہ کچھ بڑےشہرہیں

      • اوسلو

Oslo

    • برگن

Bergen

    • تھروند ہائیم

Trondheim

  • ستاوانگر
  • کرستیان ساند
  • فریدرک ستاد
  • تھرومسو
  • ساندنیس
  • درامن
  • سارپس بورگ
  • ssb.no

 

دیگر جغرافیائی حقائق

      • ناروے کے سب سے اْونچے پہاڑ کا نام گالا ہو پیگن ہے۔ اسکی بلندی 2469 میٹر ہے۔ ناروے کا تقریبا ًآدھا حصّہ پہاڑوں سے ڈھکا ہؤا ہے۔

    • ناروے کی سب سے بڑی جھیل میوسا ہے۔ یہ 365 سکوائر میٹر پر محیط ہے۔
    • ناروے کا سب سے لمبا دریا گلوما ہے۔ اس کی لمبائی 611 کلو میٹر ہے۔
    • ساحل کے ساتھ ساتھ کئی کھاڑیاں ہیں اور ان سب میں لمبی سوگنے فیوردن ہے۔ یہ 240کلومیٹر طویل ہے اوراسکی گہرائی 1308میٹر ہے۔

Sognefjorden

  • ناروے کا تقریبا ًآدھا حصّہ پہاڑوں سے ڈھکا ہؤا ہے اور اسکےعلاوہ تقریباً ایک تہائی حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ ناروے کاصرف دو فیصد تعمیر شدہ ہے( عمارات اور سڑکیں)۔

حقائق

ناروے پانچ حصّوں میں بٹا ہؤا ہے اور انتظامی حوالے سے18 اضلاع اور 422 بلدیات ہیں۔

پہاڑاور جنگلات

ناروے کا تقریباً آدھا رقبہ پہاڑی علاقہ ہے اورتقریباً تیس فیصد جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔صرف تین فیصد زیر کاشت ہے۔