تاریخ ، جغرافیہ اور رہن سہن

روایات اورتہوار

دن اہم

نئے سال کا پہلا دن
سال کا آغاز یکم جنوری سے ہوتا ہے۔ 1 جنوری کو ہم نئے سال کا پہلا دن کہتے ہیں۔ اس دن اکثر دوکانیں بند ہوتی ہیں،لوگوں کی اکثریت کو کام سے چھْٹی ہوتی ہے اور بچوں کو سکول سے چھْٹی ہوتی ہے۔

عورتوں کا دن
8 مارچ عورتوں کا عالمی دن ہے۔ 1970ء کی دہائی میں بہت سی عورتوں نے سرگرمی سے برابری اورعورتوں کے حقوق کے لیے جدّو جہد میں حصّہ لیا اور ناروے میں عورتوں کا عالمی دن 1972ء سے ہر سال منایا جاتا ہے۔8 مارچ کو سرکاری چھْٹی نہیں ہوتی۔

ایسٹر
مارچ یا اپریل میں اِیسٹر ہوتا ہے۔ اس کی تاریخ میں ہر سال کْچھ تبدیلی ہوتی ہے۔

اِیسٹر عیسائیوں کا تہوار ہے۔ لیکن ا کثر لوگوں کے لیے اس کی صرف مذہبی حیثیت ہی نہیں ہوتی، لیکن لمبی سردیوں کے بعد کچھ اضافی چھْٹیاں ۔

Skjærtorsdag, langfredag, 1. påskedag
ان دنوںمیں دوکانیں بند ہوتی ہیں، اِیسٹر کے مقدّس دن ہیں۔
اوراکثرلوگوں کو ان دنوں میں کام سے چھْٹی ہوتی ہے۔ سکول کے بچوں کو سارا ایسٹر چھْٹیاں ہوتی ہیں اور اکثر ملازمین ان تعطیلات کے علاوہ اور چھْٹیاں لے لیتے ہیں۔

یوم خمیس اور حضرت مسیح کا رفع سماوی
اِیسٹر کے چالیس دن بعد حضرت مسیح کا رفع سماوی دن
Kristi himmelfartsdag اور پچاس دن بعد یوم خمیس pinse ہوتے ہیں۔ دونوں عیسائیوں کے بڑے دن ہیں۔ روز مسیح رفع سماوی اور یوم خمیس کےدوسرے دن چھْٹی ہوتی ہے۔

مزدوروں کا دن
مزدوروں کا عالمی دن یکم مئی ہے۔
کئی لوگ جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں اورا پنی سیاسی دلچسپیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
1 مئی کو عوامی چھْٹی ہوتی ہے۔

قومی دن
17.mai 17.mai 17.mai

17 مئی ناروے کا قومی دن ہے۔ ہم یہ دن اس لیےمناتے ہیں کہ 17 مئی 1814ء کوملک کو اپنا آئین ملا۔
17 مئی ناروے کا قومی دن ہے۔ ہم یہ دن اس لیےمناتے ہیں کہ 17 مئی 1814ء کوملک کو اپنا آئین ملا۔
17 مئی کو بچے بہت زیادہ آئس کریم اور ساؤسیجز/ پھولسر کھاتے ہیں۔ ناروے میں بچے اس دن کے لئے بہت خوش ہوتے ہیں۔

17 مئی ایک عوامی چھٹی کا دن ہے۔

یول/کرِسمس

دسمبر میں ناروے میں بہت لوگ یْول مناتے ہیں۔ کرِسمس عیسائی تہوار ہے جو عیسٰی کی پیدائش کے لیے منایا جاتا ہے۔
کرِسمس اور کرِسمس مناناایک ایسی روایت ہے جو ا کثر یت کے لیے بہت اہم ہے۔ کرِسمس اصل میں خاندان کا تہوار ہے۔

کرِسمس سال کے تاریک تر ین حصے میں آتا ہے اور ا کثر یت کے لیےاس کا مطلب روشنی اورگرمی ہوتا ہے جب کہ باہر انتہائی سردی اور بہت ا ندھیرا ہوتا ہے۔ ناروے میں عیسائیت سے بہت پہلے ،سال کے ان دنوں کوخوب منایا جاتا تھا– شاید صرف
ا ندھیرے میں روشنی کرنے کے لیے۔

24 دسمبر کو ہم کرِسمس کی شام کہتے ہیں۔ اس روز عام طور پر خاندان کے ساتھ کرِسمس کا روایتی کھانا کھایا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مختلف روایات ہیں۔ ا کثر کی ا پنی روایات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے وابستگی بہت اہم ہے۔ کرِسمس کی شام کو ایک دوسرے کوتحفے دئیے جاتے ہیں – کرِسمس کے تحفے۔

کرِسمس سے پہلےدنوں میں دوستوں اور خاندان والوں کو کارڈز، یا ای میل کے ذریعےکرِسمس کی مبارک دی جاتی ہے۔
کرِسمس کے سارے دنوں میں سکولوں سے بچوں کو چھٹیاں ہوتی ہیں اور ا کثرملازمین ان دنوں میں ا پنی چھْٹیاں لیتے ہیں۔
دوکانیں کرِسمس کے تہوار میں کچھ دن بند رہتی ہیں۔

نئے سال کی شام

31 دسمبرکی شام ا کثر لوگ اپنے خاندان اوردوستوں کے ساتھ مناتے ہیں۔ بہت سے لوگ آ تش بازی کرتے ہیں۔ آدھی رات کو ایک بہت دلکش منظر دیکھنے میں آتا ہے جب راکٹ اور دوسری آتش بازی ا ندھیرے آسمان کو جگمگا د یتی ہے۔

نئے سال کی شام والےدن چھٹی نہیں ہوتی۔

کچھ روایات اوراہم دن جو کیلنڈرپہ نہیں ہوتے۔

پیدائش کا دن
Bursdagsbarn som blåser ut lys på kaka

پیدائش کا دن ا کثرمنایا جاتا ہے، خصوصاً بچوں کے لیے۔ ایک خاندانی تقریب کے علاوہ بچے اپنے نرسری اور سکول کے دوستوں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔

اکثر لوگ یہ تقر یب اپنے گھر میں ہی کرتے ہیں، لیکن کچھ لوگ یہ پارٹی گھر سے باہر کسی جگہ جیسے کسی پِزا ریستوران، سوئمنگ ہال یا بچوں کے لیے کسی دوسری سرگرمیوں والی جگہ پہ رکھتے ہیں۔
مہمان سالگرہ والے بچے کے لیے کوئی چھوٹا تحفہ ساتھ لاتے ہیں۔

شادی

ناروے میں ہر سال تقر یباً 000 23 جوڑے شادی کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ چرچ میں شادی کرتے ہیں لیکن باقی ایک سرکاری دفتر میں شادی کرتے ہیں۔ ہم جنس لوگوں کو بھی شادی کرنے کی اجازت ہے۔

شادی کرنے والے اکثر لوگ خاندان اور دوستوں کے ساتھ خوشی مناتے ہیں۔
عموماً شادی میں شریک مہمان اوردوسرے جو شادی والے جوڑے یا ان کے خاندان کو جانتے ہیں وہ شادی والے جوڑے کو تحفہ دیتے ہیں۔

بپتسمہ
ناروے میں ہر سال تقریباً 000 60 بچے پیدا ہوتے ہیں۔

50 اور 60 فیصد کے درمیان نومولودوں کی چرچ میں بپتسمہ کی رسم ہوتی ہے۔ جب کسی بچے کا بپتسمہ ہوتا ہے تو وہ چرچ کا ممبر بن جا تا ہے۔ بپتسمہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ والدین کرتے ہیں۔

جب بچے کا بپتسمہ ہوتا ہےتو خاندان میں بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہےاور بپتسمہ والے بچے کو تحائف ملتے ہیں۔
وہ بچے جن کا بپتسمہ نہیں کیا جاتا وہ بچے کے لیے ایک غیر مذہبی رسم مناتے ہیں۔ بعض لوگ نام رکھنے کی ایک خاص رسم کرتے ہیں اور کچھ اسےنجی طور پر مناتے ہیں۔

رسمِ توثیق

جب بچے 15- 14 سال کے ہوتے ہیں تو وہ توثیق کی رسم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
اگر وہ تائیدی رسم چرچ میں کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدستور چرچ کا ممبررہنا چاہتے ہیں۔ رسمِ توثیق ایک طرح سے بپتسمہ کی تصدیق کرنا ہے۔
پچھلی چند دہائیوں سے یہ عام ہو رہا ہے کہ ایک انسان دوستی پر مبنی رسمِ توثیق اد اکی جاتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ نوعمر کی یہ رسم مذہبی حوالےکے بغیر کی جاتی ہے۔

رسمِ توثیق کی ادائیگی سے پہلے نوعمر چرچ یا کسی دوسری نظریہ حیات والی تنظیم میں تیاری کے لیے جاتے ہیں۔ عیسا ئی رسمِ توثیق کے کورس میں وہ عیسائیت کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں اور اخلاقی اوراصلاحی سوالات کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔ انسان دوستی والے تائیدی کورس میں نوعمر انسانیت دوستی، نظریہ حیات، اخلاق اور خْلق کے بارے میں بحث و تمحیث کرتے ہیں۔

جب کسی نوعمر کی تو ثیقی رسم ہو جاتی ہے تو خاندان میں بڑی تقریب ہوتی ہےاوراس رسم کی ادائیگی والے کو تحفے ملتے ہیں۔
تقریباً 60 فیصد نوعمر چرچ میں کنفرم کرتے ہیں ۔تقریباً 20 فیصد انسان دوستی پر مبنی حوالے سے کنفرم کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ تقریباً 20 فیصد نوعمر تو ثیقی رسم نہیں کرتے۔

جنازہ / تد فین
ایک تابو ت

ناروے میں ہر سال تقریباً 000 40 افراد فوت ہوتے ہیں ۔ ان میں سے تقریباً 85 فیصد کو چرچ کے انداز سے دفنایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک پادری جنازہ کی تقر یب ادا کرتا ہے۔

تدفین دو طرح سے کی جاتی ہے، تا بوت میں تدفین اور صراحی زمین کے اندر رکھنا ۔ تا بوت والی تدفین میں میّت کو تابوت کے ساتھ ہی دفنا دیا جاتا ہے۔ راکھ والی تدفین میں میّت کو جلانے کے بعد راکھ والےبرتن کو زمین کے اندر رکھ دیا جاتا ہے۔

میّت کو جلانے کے طریقے میں ناروے میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ تقریباً فوت ہونے والے 40 فیصد لوگوں کو جلایا جاتا ہے۔

حقائق

1 جنوری: نئے سال کا پہلا دن۔

8 مارچ :عورتوں کا عالمی دن۔

1 مارچ /اپریل : ایسٹر۔

اِیسٹر کے چالیس دن بعد :کرِستی ہِمل فارتس داگ۔

50دن اِیسٹر کے بعد : پِھنسے۔

1 مئی: مزدوروں کا عالمی دن۔

17 مئی : ناروے کا قومی دن۔

24 دسمبر :کرِسمس کی شام ۔

31 دسمبر :نئے سال کی شام۔