تاریخ ، جغرافیہ اور رہن سہن

ناروے میں مذہب اور نظریہ حیات

Religiøse symboler

اگرچہ ناروے میں چرچ کی حیثیت عوامی ہے تاہم مکمل مذہبی آزادی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی کسی سزا اور باز پْرسی کے خوف کے بغیراپنے مذہب پر کاربند رہ سکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ہر فرد کو کوئی بھی مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے۔ یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ہر فرد کسی مذہب سے تعلق نہ رکھنےکا اختیار بھی رکھتا ہے ۔

ن ناروے میں سب سے بڑا مذہبی حلقہ نارویجن چرچ کا ہے جو ایک عوامی چرچ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ در اصل سب کو شامل کرتا ہے اور اس کی بنیاد بچوں کی بپتسمہ کی رسم پر ہوتی ہے اور جو چرچ کی رْکنیت ختم نہیں کرتے۔ تقریباً 70 فیصد لوگ اس کے ارکان ہیں۔ اگرچہ ارکان کی شرح بہت زیادہ ہے لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ مذہب کوسب کی زندگی میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ لیکن چرچ آج بھی شہریوں کی اکثریت کے لیےکرسمس کے علاوہ بھی بعض رسوم کی وجہ سے اہم ہے جیسے بپتسمہ، کنفرمیشن، شادی اور تدفین۔

مختلف مذہبی حلقوں کو ریاست سے ان ادروں کے لئے مالی مدد ملتی ہے۔

مذہبی اور نظریہ حیات کے حلقے ریاست اوربلدیہ سے معاشی مدد لے سکتے ہیں۔ منظور شدہ مذہبی اورمختلف نظریہ حیات کے حلقوں کواپنے ہررْکن کے لئے نارویجن چرچ جیسی مدد ہی ملتی ہے

ناروے ایک کثیر ا ثقافتی اور غیرمذہبی معاشرہ ہے۔

Moské Kirke Shiva

ناروے میں عیسائیت کوئی 1000 سال پہلےعام ہوئی اور 1500ء کے بعد کی تجدید سے لوتھر َن عیسائیت (پروٹیسٹنٹ) نمایاں مذہب رہا ہے۔

شروع میں نارویجنوں کے لئے ریاستی چرچ کی رْکنیت ختم کرنے کی اجازت نہیں تھی اور تقر یباً 1000 سال پہلے ناروے میں غیرعیسائی مذہبی حلقوں کو منظم ہونے کی اجازت ملی۔

آج معاشرہ زیادہ سے زیادہ غیر مذ ہبی ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں عام شہریوں کے نزدیک اور ملکی قوانین کی تشکیل میں بھی مذہب کو پہلے کی نسبت کم اہمیت حاصل ہے۔

ناروے میں مختلف مذہبی اورنظریہ حیات کے حلقے

ناروے میں تقر یباً 30 فیصد لوگ عوامی چرچ کے رْکن نہیں ہیں۔ تقر یباً ان کا نصف دوسرے مذاہب و نظریہ حیات کے ارکان ہیں لیکن دوسرا نصف حصّہ کسی ایسے حلقے کا رْکن نہیں ہے۔

جس دس فیصد مذہبی و نظریہ حیات کے حلقے کا نارویجن چرچ سے باہر تعلّق ہے اس کی تقسیم یوں ہے :

Medlemmer i tros- og livssynssamfunn utenfor Den norske kirke

حقائق

عوامی چرچ

  • نارویجن چرچ عوامی چرچ ہے اور ناروے کا سرکاری مذہب لوتھرین پروٹسٹنٹ عیسائیت ہے۔
  • پہلے ناروے میں نارویجن چرچ کو سرکاری چرچ کا درجہ حاصل تھا۔
  • ناروے کا اب کوئی سرکاری مذہب نہیں۔