جمہوریت اورفلاحی معاشرہ

نارویجن بادشاہت

Kongeparet og Kronprinsparet, (Foto: Sølve Sundsbø / Det kongelige hoff)

ناروے میں بادشاہت ہے۔ بادشاہت میں ریاست کا سربراہ بادشاہ یا ملکہ ہوتی ہے۔ناروے میں بادشاہ کے پاس تھوڑی سیاسی طاقت ہے لیکن ہر ہفتے حکومتی کابینہ کی میٹنگ کے انعقاد میں اس کا ایک رسمی کردار ہے۔ اور وہ حکومت کے تمام سرکاری فیصلوں پر دستخط کرتا ہے اور پارلیمنٹ کے بنائےہوئے قوانین کی منظوری دیتا ہے۔

مونارک (بادشاہ یا ملکہ) کاعوام سیاسی ا نتخابات میں چناؤ نہیں کرتے ۔ یہ خطاب ورثے میں والد ین سے اولاد کو منتقل ہوتا ہے۔
ناروے کے موجودہ بادشاہ کا نام ہارا لڈ پنجم ہے۔اس کی شادی ملکہ سونیا سے ہوئی ہے۔ ان کے دو بچے ہیں – شہزادی مارتھا لْوئیس( پیدائش 1971 ) اور کراؤن پرنس ہوکن ماگنْس ( پیدائش 1973 )۔ شہزادہ ہوکن ماگنْس کواپنے والد سے بادشاہ کا خطاب ورثے میں ملے گا۔ اس کی بیٹی ، شہزادی اِنگرِد الیگزاندرا ( پیدائش2004 ) اس کے بعدنوشک تاج کی وارث بنےگی۔

Kong Harald, Kronprins Haakon og Prinsesse Ingrid Alexandra, (Foto: Morten Brun, Det kongelige hoff)

حقائق

بادشاہ

1905ء میں سویڈن کے ساتھ یونین کے خاتمہ سے ناروے میں تین بادشاہ ر ہے ہیں:

    • ہوکن ہفتم ۔ بادشاہ 1905ء – 1957ء
    • اْولاو پنجم۔ بادشاہ 1957ء – 1991ء
    • ہارالڈ پنجم ۔ بادشاہ 1991ء – تا حال

 (فوٹو اوسلو میوزیم) بادشاہ ہوکن 1905ء میں شہزادہ اْولاو  کو اْٹھائے ہوئے،