جمہوریت اورفلاحی معاشرہ

ناروے کی مختلف بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت

ناروے کئی بین الاقوامی تنظیموں کا رْکن ہے جو نارویجن سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسے NATO، UN اورEØS ۔

اقوامِ مْتحدہ (UN)

FN-flagget

اقوامِ مْتحدہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو <24 ا کتوبر 1945 کو وجود میں آئی۔ اقوامِ متحدہ عالمی امن کی بحالی اورتحفظ کے لئے کام کرتی ہے اوردنیا میں مختلف ممالک کے مابین بات چیت کے لئے ایک فورَم کا کام کرتی ہے۔اس وقت اقوامِ متحدہ کے ارکان ممالک کی تعداد 193 ہے۔ اقوامِ متحدہ بین الاقوامی قانون، معاشی ترقّی اورانسانی حقوق کے لئے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ امن کی بحالی کی تنظیم کی حیثیت سےاہم کردار ادا کرتی ہے۔ ارکان ممالک اپنے معاشی تعاون سےاقوامِ متحدہ کی مالی مدد کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کوئی حقیقی قانونی طاقت نہیں رکھتی۔ اس لئے اقوامِ متحدہ میں کئے گئے فیصلے ممبر ممالک کوان کی پیروی کا پابند نہیں کرتے۔

NATO

NATO-landene (Kilde: Wikimedia Commons) ) نیٹو یورپ اور شمالی امریکہ میں29 ممالک NATO شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم ( کی ایک دفاعی تنظیم ہے۔ نیٹو کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی۔ ممبر ممالک ایک دوسرے کے لئےاس بات کےدوطرفہ پابند ہیں کہ اگر ایک یا ایک سے زیادہ ممالک پر کوئی ایک یا ایک سے زیادہ ممالک حملہ کریں تو وہ مل کرایک دوسرے کی مدد اور جنگ کریں۔

EØS

ناروے میں ای یو ( یوروپئین یونین) کی رْکنیّت کے لئے دو مرتبہ ( 1972 اور 1994 میں ) ریفرنڈم کرایا گیا۔ دونوں مرتبہ آبادی کی اکثریّت نے ناروے کی یور پین یونین میں شمولیّت کے خلاف ووٹ دیا۔
ناروے ای یو EU ( یوروپئین یونین) کا ممبر نہیں۔ تاہم ہم ایک باہمی یورو پئین تعاون کا حصّہ ہیں۔ اس تعاون کوEØS (یوروپئین اقتصادی تعاون کاعلاقہ) کہا جاتا ہے۔ EØS معاہدہ EØS ممالک کے مابین مشترکہ تجارت اوردوسرے اقتصادی معاملات کو منظّم کرتا ہے۔ ہم اورباتوں کے علاوہ اشیاء، خدمات، افرادی قوّت اورسرمائے کی آزادانہ نقل و حرکت کے لئے( EU) یورو پئین یونین کے قوانین پرعمل کرتے ہیں۔
EU- og EØS-området (Kilde: Wikicommons)
نیلے رنگ والے ممالک ( EU) یورپئین یونین کے ارکان ہیں۔

ناروے، آئس لینڈ اور لیختینستئین (سبزرنگ میں) یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ EØS “یورپی اقتصادی تعاون کا علاقہ” کی وساطت سے ہیں۔

شینگن معاہدہ

شینگن معاہدہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو شریک ممالک کی ا ندرونی سرحد وں پر کنٹرول کو خارجی سرحد وں پرکنٹرول سے بدلتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شینگن ممالک کو ایک وسیع علاقہ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے جس میں باہر سے داخل ہونے والوں کو پاسپورٹ یا ویزا کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص کسی شینگن علاقہ میں داخل ہو جا ئے، تو وہ دوسرے مختلف ممالک میں پاسپورٹ کنٹرول کے بغیر سفر کر سکتا ہے۔( مخصوص حالات میں اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے اس لیے نارویجن پولیس ملک سے باہر سفر کے دوران ہمیشہ پاسپورٹ ساتھ رکھنے کا مشورہ دیتی ہے۔)
معاہدے پر شینگن لگسمبرگ میں 1985 میں دستخط کئے گئے ۔ آج شینگن علاقہ میں 27 یورپی ممالک شامل ہیں۔

وہ ممالک جنہوں نے شینگن معاہدے پر دستخط کئے ہیں :

Schengen-området (Kilde: Wikicommons)