جمہوریت اورفلاحی معاشرہ

فلاحی معاشرے میں حقوق و فرائض

فلاحی ریاست اس بات کی محتاج ہے کہ ہر کوئی معاشی طور پراس میں اپناحصّہ ادا کرے جب وہ اس حیثیت میں ہو ۔ اس ماڈل کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ ٹیکس کی جوادائیگی ہم کرتے ہیں اس کی منصفانہ تقسیم ہو اور جنہیں ضرورت ہو انہیں ملنی چاہیے۔ ساری زندگی میں ہم مختلف فلاحی فوا ئد سے مستفید ہوتے ہیں۔ سبھی زندگی میں ایک یا ایک سے زیادہ مرتبہ ایسی صورتحال میں ہو سکتے ہیں جب انہیں فلاحی معاشرے کی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ آدمی کسی حادثے کا شکار ہو سکتا ہے یا کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے، آدمی بے روزگار ہو سکتا ہے یا زندگی میں اور بحرانوں سے دوچار ہو سکتا ہے۔ تب اس بات کا پتہ ہونا کہ اس کی مدد ہو سکتی ہے بہت اچھا لگتا ہے۔

جب آدمی صحتمند اور کام کے قابل ہوتا ہے توآدمی کام کرنے اور ٹیکس ادا کرنے کے ذریعے اپنا حصّہ ادا کرتا ہے۔ اس طرح آدمی جو پہلے وصول کر چکا ہے اس کی واپس ادائیگی کرتا ہے یا جس کی آدمی کو مستقبل میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسی لئے ا کثر یت اس کو ایک اچھا نظام سمجھتی ہے۔ایک فلاحی معاشرے میں لوگوں کے معاشی حقوق وفرائض ہوتے ہیں۔

  • حقوق کی مثالیں، بیماری الاؤنس، بےروزگاری الاؤنس، تعارفی مالی مدد، بچوں کا وظیفہ اور بْڑھاپے کی پنشن ہیں۔
  • فرائض کی مثالیں ٹیکس کی ادائیگی، معاشی انتظامات کا ناجائز استعمال نہ کرنا اور حکام کو ا پنی زندگی کی صورتحال کے بارے میں درست معلومات دینا ہے۔

حقائق

آ زادی اور ذمہ داری

  • ناروے کی فلاحی ریاست میں رہنے والے تمام لوگ آ زادی اور ذمہ داری، حقوق اور فرائض رکھتے ہیں۔
  • ہمیں ا پنی زندگی ا پنی مرضی سے گزارنےکی آ زادی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم قوانین و ضوابط پر عمل کر یں تا کہ یہ نظام اپنے مقصد کے مطابق چل سکے۔