جمہوریت اورفلاحی معاشرہ

تاریخی ترقی/تبد یلی

غربت کے فنڈ سے فلاحی ریاست تک

Suppeservering for vanføre, 1905, (Oslo Museum, fotograf: Anders Beer Wilse)

فلاحی معاشرہ جس سے ہم آج کے ناروے میں شناسا ہیں تاریخی حوالے سے یہ بہت نیا نظام ہے۔

نارویجن فلاحی معاشرہ سب کے لئے ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر کوئی اس سے مستفید ہونے کا حقدار ہے۔ 100 سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ تب ایک ایسا نظام تھا جسے ہم سماجی مدد کی ریاست کہہ سکتے ہیں۔ صرف کمزور تر ین اور غر یب تر ین ہی سر کاری اداروں سے مدد لے سکتے تھے اور مختلف جگہوں پر دی جانے والی مدد میں بہت فرق ہوتا تھا۔

بہت سے سماجی فوائد/سہولیات آہستہ آہستہ متعارف ہوئے ہیں۔ بعض فلاحی سہولیات دوسری عالمی جنگ (1940-1945) سے پہلے شروع ہوئیں، لیکن ا کثر فوا ئد اس کے بعد عمل میں آئے۔

لیکن ایک فلاحی سہولت کی تاریخ ناروے میں بہت پرانی ہے: بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت 1739ء سے ہے!

بہت سے سماجی فوا ئد مزدوروں کی جدّو جہد کے نتیجے میں عمل میں آئے ہیں۔ پچھلے 60-70 سالوں میں اس بارے میں قدرے وسیع سیاسی رضامندی ہوئی ہے کہ ریاست باشندوں کی فلاح کی ذمّہ دار ہے۔

Arbeidsstue for barn, ca 1920 Frelsesarmeens suppekjøkken for uteliggere, 1920 Kø ved Christiania Dampkjøkken, 1903 Arbeidsstue for barn (1920)

حقائق

تاریخی ترقی

  • 1909: بیماری کے بیمہ کا قانون بنا
  • 1915 : اوقا تِ کار کا قانون بنا ( زیادہ ے زیادہ 10 گھنٹے یومیہ اور 54 گھنٹے ہفتہ وار)
  • 1935 : بےروزگاری الاؤنس کا قانون بنا
  • 1937 : مزدور کے تحفّظ کا قانون بنا ( اور باتوں کے علاوہ9 دنوں کی بمع تنخواہ چھْٹی)
  • 1946: بچوں کا وظیفہ شروع ہؤا
  • 1956:سب کے لئے بیماری کا الاؤنس
  • 1957: پیشہ کی معذوری اور بْڑھاپے کی پنشن شروع ہوئی
  • 1960: معذ وری کی پنشن
  • 1965: بیوہ اور اکیلے والدین کے لئے سہولت
  • 1967: قومی بیمہ کا قانون بنا