بچے اور خاندان

بچپن، بچوں کا قانون اور ادارہ تحفّظ اطفال

Fem barn sammen Barn som leker Barn i vinterlek

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے کنو ینشن کے 42 نکات ہیں جوتمام بچوں کے حقوق کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یہ 1989میں تیار ہؤا اور ناروے نے 1991 میں اس پر دستخط کئے۔ اس قانون کا تعلّق بچوں اور 18 سال سے کم عمر کے نو عمروں سے ہے اوریہ والدین کے بچوں کے بارے میں فرائض اور بچوں کے والدین پر حقوق کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے۔

بچوں کے قانون کے چند اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

  • جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ڈاکٹر یا دائی دفتر اندراج آبادی کو اس کی اطلاع دے۔ اس بات کی اطلاع ہو کہ بچے کے ماں باپ کون ہیں اور یہ کہ کیا ماں باپ اکٹھے رہتے ہیں۔ اگر بچہ ڈاکٹر کی عدم موجودگی یا ماں کے ناروے سے باہر قیام کے دوران پیدا ہو تواس کی خود اطلاع کرنا ماں کا فرض ہے۔
  • قانون کے مطابق بچوں کی اصل ذمہ داری والد ین کی ہےاور بچے والدین سے دیکھ بھال اور توجّہ کا تقاضا کر سکتے ہیں۔
  • والدین پر اپنے بچوں کی سرپرستی کی ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بچوں کو اچھی زندگی کے لئے انہیں خوراک، کپڑے اور زندگی کی دوسری ضروری اشیا ء مہیا کریں۔ اور کفالت کی یہ ذمہ داری بچے کی 18سال کی عمر پوری ہونے تک ہے۔ والدین پرعموماً یہ ذ مہ داری کالج کی تعلیم مکمل کرنے تک ہوتی ہے خواہ بچے 18سال کی عمر کے بھی ہو جائیں۔
  • والدین بچوں کی اچھی پرورش کے ذمہ دار ہیں اورانہیں ہمیشہ بچوں کی دلچسپی اورضرورت کا خیال رکھنا چاہیئے۔ بچوں کا قانون بچوں کی پرورش میں تشدّد کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے۔ سخت تشدّد یا دل آزاری قابلِ سزا ہیں اور ایسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ادرہ تحفظِ اطفال کو خاندان میں مداخلت کرنی پڑے۔
  • بچےکے کسی ذاتی معاملے میں خود کوئی فیصلہ نہ کر سکنے کی صورت میں والدین کا یہ حق اور فرض بنتا ہے کہ وہ خود فیصلے کریں۔ بچوں کے قانون میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ والدین اس بات پر زیادہ سے زیادہ زور دیں کہ بچے کی بڑھتی عمر کے ساتھ یہ جانیں کہ بچے کی اپنی کیا رائے ہے۔ بچے کو اپنی نشوونما اور بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلے خود کرنےکا اور زیادہ حق ملنا چاہئیے۔ سات سال کے بچے کو اس کے کسی ذاتی معاملے میں والدین کے فیصلہ کرنے سے پہلےاپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ جب بچہ بارہ سال کا ہو جائے تو اس بات پر بہت زور دیا جائے کہ بچے کی ا پنی رائے کیا ہے۔
  • 15سال کی عمر کا بچہ اپنی تعلیم سے متعلّق سوال یا کسی تنظیم کو چھوڑنے یا اس میں شریک ہونے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا خود حق رکھتا ہے۔ مثلاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نو عمرخود اس بات کا فیصلہ کرتا / کرتی ہے کہ اس نے کالج میں کون سی پڑھائی کے لئے درخواست دینی ہے۔ والدین اور وہ اس بارے میں بحث کر سکتے ہیں اور والدین اسے اپنا مشورہ دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ اس نے خود ہی کرنا ہے۔ نوعْمراس بات کا فیصلہ خود کرسکتے ہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت، مذہبی جماعت یا دوسری تنظیموں کے ارکان بن سکتے ہیں۔
  • والدین اس بات کا خیال رکھیں کہ بچہ ابتدائی سکول کی تعلیم میں جاتا/جاتی ہےاوراس بات کا بھی خیال رکھیں کہ وہ ایسی تعلیم حاصل کریں جو ان کی اہلیت اوردلچسپی کے مطابق ہو ۔
  • بچوں کو دونوں والدین کے ساتھ رہنے کا حق ہے بیشک والدین علیٰحدہ رہ رہے ہوں۔
  • ناروے میں بلوغت کی عمر 18 سال ہے۔ اس کی مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے قانونی معاملات اور اپنی دولت خود سنبھالنے کی عمر کے ہو چکے ہیں۔ اب والدین مزید ذمہ دار نہیں رہے۔

ناروے میں ادارہ تحفظ اطفال

بچوں کی نگہداشت اور پرورش کی بنیادی ذمہ داری والدین کی ہے۔ تاہم والدین کو کسی مشکل صورتحال میں قلیل یا طویل مدت کے لئے مدد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ادارہ تحفظ اطفال ایسے حالات میں بچوں اور والدین کی مدد کر سکتا ہے۔

ادارہ تحفظ اطفال کی سہولت ہر بلدیہ میں موجود ہے۔ ادارہ تحفظ اطفال کے دائرہ کار کو بچوں کے قانون کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ یہ قانون ناروے میں مقیم تمام بچوں اور نوجوانوں کے لئے ہے قطع نظر ان کے پس منظر، قومیت اور شہریت کے۔

بچے کی بہتری کے لئے

ادارہ تحفظ اطفال کا مقصد بچوں کی بہتری کے لیے مددکرنا ہے۔یہ اقوام متحدہ کے بچوں کے کنوینشن کے مطابق ہے جو کہ نارویجن قانون کا بھی ایک حصّہ ہے۔ بچوں کے کنوینشن کے مطابق بچے خودمختار افراد ہیں جنہیں زندگی کے بنیادی حقوق، نشوونما ، تحفظ اور شرکت کی خصوصی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے کنوینشن کے آرٹیکل 12کے مطابق ادارہ تحفظ اطفال بچوں کے خیالات کو سنے اور ان کی عمر اور بلوغت کے مطابق ضروری اہمیت دے۔ جب خاندان ادارہ تحفظ اطفال سے رابطہ کرے تو عام طور پر ادارہ تحفظ اطفال والے والدین اور بچے دونوں سے بات چیت کرتے ہیں۔

ادارہ تحفظ اطفال کے اہم مقاصد

  • مدد اور تعاون کرنا
  • ادارہ تحفظ اطفال گھر میں بچے کی صورتحال یا دوسری وجوہات کی بناء پربچے اور خاندانوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ مدد اور باتوں کے علاوہ مشاورت، رہنمائی یا دوسری فارغ وقتی سرگرمیوں میں شرکت، نرسری یا سکول کے فارغ وقتی انتظام سے متعلق مدد کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ ادارہ تحفظ اطفال کے دس میں سے نو معاملات میں خاندان والے اپنے گھر میں ہی رضاکارانہ مدد حاصل کرتے ہیں ۔

  • بچوں کے تحفّظ کی ذمہ داری
  • اصولاً بچے کے لیے اپنے گھر میں پرورش پانا سب سے اچھی بات ہے ،لیکن اگر والدین کے ساتھ مدد اور تعاون( مدد کے اقدامات) بچے کی ضرورت کے لیے کافی نہ ہو تو بچے کا تحفظا دارہ تحفظ اطفال کی ذمہ داری ہے ۔ ادارہ تحفظ اطفال کا فرض ہے کہ بچے کی نگہداشت کا ذمہ لینے سے پہلے امدادی اقدامات کا جائزہ لے۔ ادارہ تحفظ اطفال کے بچے کی نگہداشت کا ذمہ لینے کے لیے بہت سنگین وجوہات ہونی چاہییں ۔ مثلاً جیسے بچے کی پرورش میں سنگین کوتاہی ہو – جیسے والدین نے بچے کو جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچایا ہو، یا اتنی غفلت برتی گئی ہو کہ بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما خطرے میں ہو۔ اگر والدین بچے پر تشدّدکریں مثال کے طور پر ماریں تو اسے پرورش میں غفلت سمجھا جاے گا۔ اگر ایک بچے کو والدین کی مرضی کے بغیر گھر سے باہر رکھنا ہو تو اس کا فیصلہ فلکیس نیمدا برائے ادارہ تحفظ اطفال اور سماجی مسائل میں ہونا چا ہئیے، جو ایک عدالتی طرز کا ادارہ ہے۔ ایسے مقدمات میں والدین مفت قانونی مدد ( ایڈووکیٹ)کا حق رکھتے ہیں۔

    ادارہ تحفظ اطفال کا کسی کیس میں طرزعمل

    ادارہ تحفظ اطفال کے بہت سے کیس والدین کو خود اس ادارے سے مدد کے لئے رابطے سے شروع ہوتے ہیں۔ ادارہ تحفظ اطفال سے مراکز صحت، ہسپتالوں، سکولوں، نرسریوں، پڑوسیوں اور بچوں کے بارے میں متفکر دوسرے افراد کی جانب سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے۔ مراکز صحت، سکولوں، نرسریوں کے ملازمین اس بات کے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ کسی بچے کے بارے میں تشویش کی صورت میں ادارہ تحفظ اطفال کے ساتھ رابطہ کریں۔ ادارہ تحفظ اطفال تمام موصولہ اطلاعات پر غور کرتا ہے۔ اگرادارہ تحفظ اطفال اس بات کی ضرورت محسوس کرے تو بچے کی صورتحال کے بارے میں مزید آگاہی کے لئے بچے اور والدین سے رابطہ کر سکتا ہے۔

    ادارہ تحفظ اطفال کے ساتھ بچے اور بالغ افراد کیسے رابطہ کر سکتے ہیں؟

    ادارہ تحفظ اطفال کی سہولت ہر بلدیہ میں موجود ہے جو دن کو کھلا ہوتا ہے۔ شام، رات کے وقت اور ویکنڈ میں بچہ یا وہ افراد جو بچے کے لئے فکر مند ہوں وہ بچوں اور نو عمروں کے لئے الارم کے فون نمبر 116111 پر فون کر سکتے ہیں ۔

    حقائق

    بچوں کا وظیفہ

    بچوں کا وظیفہ معاشی مدد کے طور پر ناروے میں رہنے والے 18سال سےکم عمر کے تمام بچوں کو دیا جاتا ہے ۔ یہ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے دیا جاتاہے جو ایک بچے کے لیے ہوتے ہبں۔یہاں آپ کو بچوں کےوظیفہ کے بارے میں مزید معلومات مل سکتی ہیں، بشمول کرونر میں رقم: Nav barnetrygd

    نقد امداد

    نقد امداد وہ معاشی مدد ہے جوا یک اور دو سال کی عمر کےدوران نرسری میں نہ جانے والے تمام بچوں کو دی جاتی ہے ۔ نقد امداد 13 سے 23مہینوں کی عمر کے ہر بچے کے لیے ماہانہ ادا کی جاتی ہے ۔ نرسری میں جز وقتی شرکت اس رقم میں کمی کر دیتی ہے۔ یہاں آپ کو نقد امداد کے بارے میں مزید معلومات مل سکتی ہیں، بشمول کرونر میں رقم:

    Nav kontantstøtte