بچے اور خاندان

بچوں کی پرورش

Barn og foreldre

بچے والدین کے محتاج ہیں اور والد ین اپنے بچوں اور ان کی پرورش کے ذمہ دار ہیں۔ پہلے وقتوں میں بچوں کو ” چھوٹے بالغ ” سمجھا جاتا تھا اور انہیں خاندان کی آمدنی میں شرکت کے لئے کام کرنا پڑتا تھا۔ پہلے بڑے خاندانوں میں رہنا بھی عام تھا لیکن آجکل اکثر بچے چھوٹے خاندان میں پلتے ہیں۔ اکثر بچے نرسریوں میں جاتے ہیں اور تمام بچے چھ سال کی عمر میں سکول جاتے ہیں۔

بچوں کی پرورش کے بارے میں سوچ بدل گئی ہے۔ آج بچپن کھیلنے اور سیکھنے کا نام ہے اور بچوں سے پہلے کی طرح مطالبے بھی نہیں کئے جاتے۔ والدین زیادہ سے زیادہ وقت اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور جس وقت وہ بچوں کے ساتھ نہیں ہوتے اس وقت میں بچوں کی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ جاننا چاہتے ہیں۔ اسی لئے وہ نرسری اور سکول کے ساتھ اچھے تعاون کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ا کثر والد ین بچوں کے دوستوں اور ان کے والدین کے ساتھ شناسائی کو بھی بہت اہم سمجھتے ہیں ۔

چونکہ بچے گھر سے باہر بہت کچھ سیکھتےاورتجربہ حاصل کرتے ہیں اس لئے وہ جس ماحول اور معاشرے میں رہتے ہیں اس کا اثر بھی لیتے ہیں۔ والدین بچوں کی نشوونما کو مکمل قابو میں نہیں رکھ سکتے اور بچے بھی اپنے والدین کی مکمل نقل نہیں ہو سکتے۔ لیکن پھر بھی والدین عموماً بچوں کے لئے اچھی مثال بننا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ انسان کا مختلف حالات میں رویّہ اور ردّ ِعمل کیسا ہونا چاہیے۔

اکثر والدین کبھی کبھی یہ سوچتے ہیں کہ بچوں کی پرورش مشکل کام ہے۔ وہ ایسے فرد/افراد سے مشورہ لے سکتے ہیں جنہیں اس بارے میں بہت علم ہو،اس موضوع پر کتابیں پڑھ سکتے ہیں یا انٹر نیٹ پر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔