صحت

صحت اور بہبود

ہماری صحت کا ذمّہ دار کون ہے؟

پہلے لوگ ا کثر یہ سمجھتے تھے کہ محکمہ صحت مریضوں کی صحت کا ذمّہ دار ہے۔ پچھلے سالوں سے یہ عام ہےکہ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ اپنی صحت کے ہم خود ذمّہ دار ہیں۔ ہم جیسی زندگی گزارنے کا انتخاب کرتے ہیں وہ ہماری صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ محکمہ صحت کی ذمّہ داری ہمیں معلومات اور مشورے دینا ہے اور ان پر عمل کرنا ہماری ذمّہ داری ہے۔ مختلف بیماریوں کی روک تھام اور بیماریوں کے مختلف طریقوں سے علاج کے لئے معلومات حاصل کرنا آسان ہے۔ انٹر نیٹ پر معلومات کے علاوہ مثلاً ڈاکٹروں کے ہاں یا دواخانوں میں کتابچے ملتے ہیں۔

صحت کے موضوع پر بہت زیادہ معلومات اور تربیّت دی جاتی ہے۔ سکولوں میں صحت ایک اہم موضوع ہے اور ریاست صحت کے بارے میں مختلف طریقوں سے معلوماتی مہمّات چلاتی ہے۔ ٹیلیویژن اور ریڈیو پر بھی صحت کے بارے میں بہت مواد ہوتا ہے۔

اگرچہ فلاحی معاشرہ لوگوں کی اچھی صحت کو یقینی بنانے کی بہت بڑی ذمّہ داری لیتا ہے پھر بھی اکثرصورتوں میں اس کا انحصاراس بات پر ہے کہ کوئی فرداپنی زندگی کیسے بسر کرتا/کرتی ہے اوراپنی صحت کی دیکھ بھال کیسے کرتا/کرتی ہے۔ کئی ملکوں میں مریض علاج کے بارے میں ڈاکٹر کے مکمل مختارہو نے کے عادی ہوتے ہیں۔ مریض ڈاکٹر سے دوا لئے بغیرنہ جانے کے بھی عادی ہو سکتے ہیں۔ ناروے میں عموماً مریض اور ڈاکٹر علاج کی مختلف صورتوں اور اسکی پیروی پرباہم بات چیت کرتے ہیں۔

اچھی صحت بیماری لاحق نہ ہونے سے بڑھ کرہے؟

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھی صحت کا مطلب بیماری سے بچے ہوئے ہونا ہے۔ دوسرے یہ سمجھتے ہیں کہ اچھی صحت سے مراد انسان کا مطمعن ہونا اورخوشگوار زندگی بسر کرنا ہے۔

اچھی صحت کی تعریف کے یہ دونوں انداز درست ہیں۔ ایسے معاشرے میں جہاں بیماریاں اورغربت زندگی کا بڑا حصہ ہوتی ہیں وہاں شائد پہلی تعریف درست ہو۔ دوسرے معاشرے میں جہاں اکثربیماریوں کے خلاف وافر دوائیاں موجود ہوتی ہیں اور سب لوگوں کو ڈاکٹراورضروری طبی امداد میسر ہو وہاں اکثر کے خیال میں اچھی صحت صرف جسمانی اور ذہنی تندرستی سے بڑھ کر ہے۔

حقائق

معاشی انتظامات

ایک فلاحی معاشرے میں یہ بہت اہم ہے کہ ساری آبادی جہا ں تک ممکن ہو سکے ایک اچھی زندگی بسر کرے۔ ا چھی صحت سےبھی اس کا ا تنا ہی تعلق ہے۔

فلاحی ریاست کا یہ ذمہ ہے کہ لوگ صحت کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں اور ہر کسی کو جس علاج کی ضرورت ہو انہیں وہ اپنی معاشی حالت پر انحصار کئے بغیر میسّر ہو۔ اس بات کی ضمانت کے لئے مختلف قسم کے معاشی انتظامات ہیں جن سے یہ ممکن ہوتا ہے۔

رازداری کی پابندی

محکمہ صحت کے سبھی ملازمین صیغہ رازداری کے پابند ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مریض کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اس کے بارے میں معلومات نہیں دے سکتے۔