روزگار کی زندگی

روزگاراورفلاح وبہبود

اگر زیادہ لوگ روزگار میں ہوں تو اس کا مطلب ریاست اور بلدیات کی ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ ہے۔ یہ معاشرے کے لئے کئی حوالوں سے بہت اچھا ہے :

  • سکولوں ، محکمہ صحت اور سڑکوں وغیرہ کے لئے زیادہ پیسے ہوں گے۔
  • ہمیں فلاحی سہولیات میں مزید بہتری کے لئےاور زیادہ پیسے وصول ہوں گے۔
  • سرکاری اخراجات میں کمی ہو گی( بےروزگاری الاؤنس ، سماجی مالی مدد ، قومی بیمہ سے ادائیگی وغیرہ ، لینے والوں کم ہوں گے)۔

1960کی دہائی کے آخر سے ناروےکی حیثیت ایک تیل والی قوم کی ہو چکی ہے۔ ایک تیل والی قوم ایک ایسا ملک ہے جہاں تیل اور تیل کی صنعت اہم کاروباری شعبہ ہے۔

نارویجن ریاست تیل اور گیس کی برآمد سے بہت زیادہ پیسےکماتی ہے۔ بہت لوگوں کا خیال ہے کہ اس آمدنی کی وجہ سے ہی ناروے ایک فلاحی معاشرہ بنا ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟

تیل اور گیس کی پیداوار کی آمدنی فلاحی معاشرے کے لئے ادائیگی میں شامل ہے۔ سرکاری اخراجات کا تقر یباً ایک چوتھائی حصّہ اس آمدنی سے پورا کیا جاتا ہے۔ باقیماندہ سرکاری اخراجات ٹیکس اور دوسرے محصولات سے پورے کئے جاتے ہیں۔

روزگار ہمیں دیتا ہے

  • معاشی امکانات
  • خود مختاری اورایک با مقصد د ن
  • اہلیت اور قابلیت کو بروئے کارلانے کا موقع
  • معاشرے میں اپنے کرداراورخود کومفید سمجھنےکا موقع
  • سماجی حیثیت اور سماجی تعلقات

حقائق

وزیرِ اعظم یَینس ستولتنبرگ نے اپنی نئے سال کی تقریرجنوری 2011 ء میں کہا : “ہماری زندگی کا انحصار ایک دوسرے کے روزگار پر ہے۔ جتنے زیادہ لوگ روزگار میں ہوں گے اتنی ہی زیادہ فلاح وبہبودہو گی۔”

آمدنیاں

ریاست اور بلدیات کی آمدنیوں کے اہم وسیلے ٹیکس اور دوسرے محصولات سے ہونے والی آمدنی ہے۔ ریاست اور بلدیات شہریوں اور کاروباری اداروں دونوں سے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔

نارویجن روزگار کی زندگی

kompetansenorge.noپرنارویجن روزگار کی زندگی کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔ آپ .