تعلیم اورقابلیت

سکول کی ا قد ار کی بنیاد

Aktiv elev

مساوات و برابری اور فرد کی ذاتی ا نتخاب کی آزادی نارویجن معاشرے کی بنیادی اقدارہیں۔ یہی اقدار سکول میں بھی اہم ہیں۔ سکول کی تعلیم اورسرگرمیاں طلباء کو یہ سکھاتی ہیں کہ تمام انسان ایک جیسی قدر رکھتے ہیں۔طلباء کو سکول میں اپنے روزمرّہ پر اثر ا نداز ہونا چا ہیے
اور وہ شروع سے ہی ا پنی تعلیمی ذمّہ داری کو سمجھیں ۔ سکول کی ذمّہ داری ہے کہ تمام طلباء کو اْنکی صحیح سطح کے مطابق موزوں تعلیم دے۔

سکول کا نصب العین تعلیم سےخود مختار انسانوں کو اچھی سماجی اورعلمی مہارت دینا ہے۔

ایک جدید جمہوریت میں اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ شہری باعِلم بھی ہوں اور ا پنی ذاتی رائے بھی رکھتے ہوں اور یہ کہ وہ روزگار اور معاشرتی زندگی میں سرگرمی سے حصّہ لیتے ہوں۔ سکول بچوں کو اچھی واقفیتِ عامہ فراہم کرے ۔ اس کا مطلب ہے کہ بچے بہت سے مختلف موضوعات کے بارے میں سیکھیں۔وہ زبان، ریاضی اور اپنے اردگرد کے معاشرے اور فطرت کے بارے میں سیکھیں۔

مفید واقفیتِ عامہ کے علاوہ سکول کی اور بھی کئی ذمّہ داریاں ہیں مثلاً بچے یہ سیکھیں:

  • معلومات تلاش کرنا اور ان معلومات کا تنقیدی جائزہ لینا
  • معلومات اور ا پنی سوچ سمجھ کی بناء پر ا پنی رائے بنانا
  • اور اپنی رائے کے لیے دلائل دینا

Ungdomsskuleelevar

تعلیم کے اغراض و مقاصد (تعلیمی تدریسی قانون)

  • سکول اور تعلیمی ادارے میں تعلیم کا مقصدگھر کے تعاون کے ساتھ دنیا اور مستقبل کے لیے دروازے کھولنا اورطلباء کو تاریخی اور ثقافتی بصیرت اور وابستگی دینا۔
  • تعلیم کی بنیاد عیسائیت اورانسانی ورثہ اور رو ا یت کی بنیادی اقدار، انسانیت اور فطرت کے احترام، فکری آزادی، دوسروں سے شفقت، معافی، برابری اور ہمدردی پر ہو، اقدار جن کا اظہار مختلف مذاہب اور نظریہ حیات میں بھی ہوتا ہے اور جو انسانی حقوق سے ملحق ہیں۔
  • قومی ثقافتی ورثہ اور ہماری مشترکہ عالمی ثقافتی روايت کے بارے میں آگاہی اور علم کے اضافے میں حصّہ لینا ۔
  • کثیرالثقافتی فہم و فراست اور فرد کے عقید ے کے لیےاحترام کی سوچ اجاگر کرنا۔ جمہوریت، مساوات اورسائنسی اندازِ فکرکو بڑھانا ہے۔
  • طلباء اور شاگردوں کی معلومات، اہلیتوں ، اور رویوں میں بہتری جو ان کی اپنی کامیاب زندگی کے ليے اور معاشرے اور مقامی ماحول میں تعاون اور شرکت کے کام آ‎ئے۔وہ خوشی ، لگن اور جستجو سے معمور ہوں۔
  • طلباء اور شاگردوں کی تربیت ناقدانہ سوچ ،اخلاقی رویہ اور ماحولیاتی شعور سے آگاہی کے مطابق ہو۔
  • ‎ سکول اور ادارے کو طلباء اور شاگردوں کو اعتماد ،احترام اور توقع کےساتھ ملنا چا ہیے اورانہیں ایسی محنت کا عادی بنانا چا ہیےجو ان میں علم اور علم کی خواہش میں اضافہ کرے ۔ ہر طرح کے تعصب کی مخالفت کرنی چا ہیے۔ ‎

حقائق

سکول کو:

  • تمام طلباء کو اپنی اہلیتوں اور ذہانت کی نشوونما کے لیے انفرادی اوراجتماعی حوالے سے ایک جیسے اچھے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
  • سیکھنے کی خواہش اور تجسس بڑھائے اورمستعد رہنے کی صلاحیت برقرار رکھے
  • طلباء کوا پنی سیکھنے کی صلاحیتوں اورتنقیدی سوچ کو بڑھانے کی اہلیت کو محرّک کرے۔
  • طلباء کو ا پنی ذاتی نشوونما اور ا پنی شناخت کو مضبوط کرنے، اخلاقی، سماجی اور ثقافتی قابلیّت میں اضافہ کرنے اورجمہوریت سے آگاہی اورجمہوری عمل میں شمولیت کو تقویت دے۔
  • طلباء کو اثراندا ز ہونے کی راہنمائی کرے تا کہ وہ اقدار کے شعوری انتخاب، تعلیم اور مستقبل کے روزگار کا انتخاب کر سکیں۔
  • طلباء کو اْنکی صحیح سطح کے مطابق موزوں تعلیم دے اور کام کرنے کے مختلف طریقوں کو فروغ دے۔
  • اس بات کا خیال رکھے کہ جسمانی اور نفسیاتی سماجی سرگرمی و تعلیم کا ماحول صحت ، طمانیّت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
  • اساتذہ اور انسٹرکٹربچوں اور نو عمروں کو نمایاں رہنما اور رول ماذل / مثال کی حیثیت سے نظر آنے میں تعاون کریں۔
  • اس بات کا خیال رکھے کہ جسمانی اور نفسیاتی سماجی سرگرمی و تعلیم کا ماحول صحت ، طمانیّت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
  • گھر کے ساتھ تعاون کو آسان بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ والدین سکول کے ساتھ باہم ذمہ دار ہوں۔
  • اچھے تعلیمی ماحول کے لیے مقامی معاشرے کو ساتھ ملانا۔