تعلیم اورقابلیت

تاریخی ترقی

سکول اور تعلیم کے لئے ناروے میں بہت پرانی روایات ہیں۔ ( اٹھارہویں صدی ) 1700 کی دہائی میں ملک میں معاشی صورتِحال بہت ابتر تھی۔ اس کے باوجود تعلیم کو اس قدر اہم سمجھا گیا کہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام بچے سکول جائیں گے اور اس کی ادائیگی ریاست کرے گی۔

Gutteklasse, 1885 Pikeskole, 1895

  • 1700 کی دہائی کے پہلے نصف حصے میں ہی تمام بچوں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے لازمی اور مفت سکول کر دیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہر کوئی پڑھنا سیکھے تا کہ وہ بائیبل خود پڑھ سکیں۔ تمام بچےعیسائیت کی تعلیم بھی حاصل کر سکیں گے۔
  • اس زمانے میں ہر روز سکول نہیں ہوتا تھا۔ بہت سے بچے ہر دوسرے روز سکول جاتے یا سال میں صرف چند ہفتے ہی جاتے تھے۔
  • اس کے بعد سکول کے مضامین میں اضافہ ہؤا۔ لکھائی، ریاضی اور گانا 1800 کے آغاز میں لازمی ہو گئے۔
  • 1936ء میں تمام بچوں کے لئے سات سالوں کی تعلیم لازمی ہو گئی۔ 1997ء سے دس سالوں کی تعلیم لازمی کر دی گئی ہے۔
  • پارلیمنٹ کے ممبران مختلف سکولوں میں استعمال کے لئے تمام درسی منصو بوں کی منظوری دیتے ہیں۔ اس طرح سارے ملک کے سکولوں میں ایک جیسا نصاب ہوتا ہے۔

حقائق

تاریخی ترقی/تبد یلی

1739: پہلا قانونِ مدارس/ سکول . لازمی مضامین عیسائیت اور پڑھائی

1827: نیا قانونِ مدارس۔ لکھنا اور ریاضی بھی لازمی مضامین ہو گئے۔

1936: مساویانہ /ایک جیسا سکول عمل میں آیا۔

1969: 9 سالہ لازمی سکول

1997: 10سالہ لازمی سکول

سکول میں کیا کچھ ہوتا ہے

پچھلے 300 سالوں میں سکول میں کیا کچھ ہوتا ہے اس میں بہت زیادہ تبد یلی آئی ہے۔ یہاں ہمارے ملک میں لازمی سکول رہ چکا ہے۔ 1700 کے بعد تعلیم کا مقصد طلباء کو عیسائیت کی تعلیم دینا تھا۔ اس کے بعد لکھائی، ریاضی ، کھانا پکانا، سلائی کڑھائی اور بڑھئی کے کام کو بھی سکول کی تعلیم میں شامل کر لیا گیا۔

معلومات

آج کل معلومات تک رسائی بہت آسان ہے۔ بچے بہت چھوٹی عمر سے کمپیوٹراور انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ بچوں کو مفید معلومات تک رسائی کی تربیت دینا اورجو معلومات وہ حاصل کریں ان پر تنقیدی نگاہ رکھنا بہت اہم ہے۔

بچوں کی خود مختارانہ سوچ کی تربیت ہونی چاہیے۔ جو معلومات وہ حاصل کر یں انہیں وہ مختلف مسائل کو حل کرےنے کے لیے استعمال کرنا سیکھیں، اور وہ دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا بھی سیکھیں۔ اس کے علاوہ ا ن میں حقائق سے آگاہی کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنےاور حساب میں بنیادی قابلیّت بھی ہونی چاہیے۔