تاریخ ، جغرافیہ اور رہن سہن

ناروے کی تاریخ کا مختصر تذکرہ

Vikingskip

وائکنگ دور

800 ء سے 1050ء کو وائکنگ دور کہا جاتا ہے۔ وائکنگ دور کےآغاز میں ناروے ایک مْلک نہیں تھا بلکہ کئی چھوٹے چھوٹے مْلک تھے جن کا اپنا اپنا بادشاہ ہوتا تھا۔ 872ء میں وائکنگ ہا رالڈ ہورفاگرے سارے ناروے کا بادشاہ بن گیا۔ بہت سے وائکنگز دوسرے ممالک میں چلے گئے۔ بعض وا ئکنگز تاجر تھے وہ سامان خریدتے اور بیچا کرتے تھے اور دوسرے جنگجو تھے جو چوری اور قتل و غارت گری کرتے۔ آج جب ہم وا ئکنگز کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اکژ جنگجوؤں کا تصوّر اْبھرتا ہے۔ ناروے میں عیسائیت کا پرچار( 1000ء کے بعد) گیارہویں صدی میں ہوا۔ عیسائیت نے قدیم دیوتائی عقیدوں پراپنی جگہ بنا لی۔

Borgund stavkirke

ڈنمارک اور ناروے میں یونین( الحاق)

چودہو یں صدی میں ڈنمارک نے ناروے پر بہت زیادہ اثرو رسوخ حاصل کر لیا اور 1397 ء کے بعد ناروے کا ڈنمارک اور سویڈن کے ساتھ باقاعدہ الحاق ہو گیا۔ اس یونین کا ایک مشترکہ بادشاہ ہوتا تھا۔ سویڈن بعد میں اس الحاق سے الگ ہو گیا۔ لیکن ناروے اور ڈنمارک میں یہ الحاق 1814 ء تک قائم رہا۔ سیاست کی باگ ڈور ڈنمارک کے پاس تھی۔ کوپن ہیگن یونین کا ثقافتی مرکز تھا اور نارویجن لوگ ڈ ینش زبان لکھتے پڑھتے تھے۔ نوشک کسان ڈنمارک کے بادشاہ کو ٹیکس ادا کرتے تھے۔

یونین کا خاتمہ اور نیا الحاق

Eidsvoll 1814 - © Stortingsarkivet/ foto: Teigens fotoatelier as
1814ء ناروے کی تاریخ میں ایک اہم سال ہے۔ اس سال 17 سترہ مئی کو ناروے کو اپنا آئین ملا۔
1800 ءکے بعد یعنی اْنیسویں صدی کے آغاز میں یورپ میں بہت زیادہ جنگیں ہوئیں۔ ایک بڑی جنگ انگلینڈ اورفرانس کے درمیان ہوئی۔ ڈنمارک- ناروے فرانس کی جانب تھے اور جب فرانس کو جنگ میں شکست ہوئی تو ڈنمارک کو ناروے سے سویڈن کے حق میں دستبردار ہونا پڑا جو کہ انگلینڈ کا حما یتی تھا ۔

1814ء میں ڈنمارک اورناروے کےالحاق کا خاتمہ ہو گیا۔ کچھ نارویجنوں کا خیال تھا کہ الحاق کے خاتمہ کے بعد ناروےایک خود مْختارملک ہو گا۔جنوبی علاقوں کے 112 بااثر لوگ آئیدسوولّ میں اکٹھےہوئے جو آکرس ہوس فِلکے میں ہے۔ وہ اور باتوں کےعلاوہ خود مختار ناروے کا آئین لکھنا چاہتے تھے ۔لیکن اس کے باوجود ناروے کو زبردستی سویڈن کے ساتھ الحاق کرنا پڑا اور نومبر1814ء میں ناروے اور سویڈن کے درمیان یونین ایک حقیقت بن گئی۔
سویڈن کے ساتھ یونین ڈنمارک کی نسبت کچھ بہترتھی ۔ناروے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اپنا دستور محفوظ رکھ سکا اور اندرونی معاملات میں خودمختار بھی تھا۔ خارجہ امورکی سیاست سویڈن کے پاس تھی اور دونوں ملکوں کا بادشاہ سویڈش تھا۔
Eidsvollsbygningen

قومی رومانیت اور نارویجن شناخت

Brudeferd i Hardanger (Hans Gude & Adolph Tidemand, © Nasjonalmuseet for kunst, arkitektur og design)
یورپ میں اْنیسویں صدی کے وسط میں فنون اور ثقافت میں ایک نیا رْحجان اْبھرا جسے ہم قومی رومانیت کا نام دیتے ہیں۔ قومی اوصاف کو اجاگر کرنا اور ان سے آگاہی کو منظر پہ لانے کو اہم سمجھا گیا۔ ناروے میں خصوصا ً قدرتی خوبصورتی کو اولیّت دی گئی اور کسانوں کے معاشرے کو خالص ناوریجن گردانا گیا ۔
قومی رومانیت ادب، مصوّری اور موسیقی میں بہت نمایاں ہوئی۔ اس زمانے میں نارویجن لوگ اپنی قومی شناخت کے بارے میں بہت زیادہ با شعور ہوئے ۔ اکثر لوگوں میں نارویجن ہونے پر فخر کا احساس بیدار ہوا جس کے نتیجے میں ملک کی آزادی کی خواہش میں بہت شدّت آئی۔

ڈنمارک کے ساتھ کئی سو سالوں کے الحاق کے بعد ناروے کی تحریری زبان ڈینش تھی۔ آج کی تحریری زبان جسے ہم بْوک مول کے نام سے جانتے ہیں یہ ڈینش کی ہی ایک ترقی یافتہ شکل ہے ۔
قومی رومانی تحریک کے دور میں بہت لوگوں کا خیال تھا کہ نارویجن لوگوں کی اپنی تحریری زبان ہونی چاہئیے جس پر ڈینش زبان کا اثر نہ ہو۔ ماہرِ لسانیات اِیوار اَوسن نے سارے ناروے میں گھوم کر بولیوں کے مختلف نمونے اکٹھے کیے۔ ان کی مدد سے اس نے ایک نئی تحریری زبان تشکیل دی جسے نئی نوشک کہا جاتا ہے۔
نئی نوشک اور بْو ک مول دونوں نے ہی 1800 ءکے بعد یعنی اْنیسویں صدی میں کافی ترقی کی ہے لیکن ابھی تک ناروے میں یہ دو سرکاری شکلیں استعمال میں ہیں، سامی اورکوینسک زبانوں کے علاوہ ۔

ناروے میں صنعتی ترقی

Fabrikkarbeidere 1880, (Oslo Museum, fotograf: Per Adolf Thorén)
اْنیسویں صدی کے وسط میں ناروے تقریباً ستر فیصد لوگ دیہات میں رہتے تھے۔ وہ زیادہ تر زراعت اور ماہی گیری سے وابستہ تھے۔ ا کثر یت کے لئے زندگی کٹھن تھی۔ آبادی میں اضافہ ہوا اور سب کے گزارے کے لئے زمین اور روزگار کافی نہیں تھے۔ اس کے ساتھ ہی شہروں میں بہت تبدیلیاں ہوئیں۔ زیادہ سے زیادہ کارخانے کھْلے اور بہت سے لوگ دیہات سے شہروں میں روزگار کے لئےمنتقل ہوئے۔ بہت سے مزدورخاندانوں کے لئے شہروں میں زندگی مشکل تھی۔ کام کے اوقات بہت طویل تھے اور رہنے کی صورتحال کافی خراب تھی۔ خاندانوں کے اکثر بہت سے بچے ہوتے تھے اور اسی لئےچھوٹی سی رہائش میں بہت سے افراد کا رہنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ بہت سے بچوں کو بھی خاندان کی گزراوقات کے لئے کارخانوں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ بہت سےلوگ قسمت آزمائی کے لئے ملک سے باہر منتقل ہو گئے ۔ 1850ء سے 1920ء کے درمیان آٹھ لاکھ نارویجن امریکہ چلے گئے۔

ایک آزاد اور خود مختار ملک


1905ء میں سویڈن کے ساتھ یونین کا خاتمہ ہو گیا۔ نارویجن پارلیمنٹ اور سویڈش بادشاہ کےدرمیان ایک لمبا عرصہ سیاسی عدمِ مفاہمت رہی اور 1900ء کے آغاز سے ہی زیادہ سے زیادہ لوگوں کا خیال تھا کہ ناروے کو آزاد اور خود مْختار ملک ہونا چاہیئے۔
سات جون 1905ء کوپارلیمنٹ نے اعلان کیا کہ سویڈیش بادشاہ اب ناروے کا بادشاہ نہیں رہا اور اس طرح سویڈن کے ساتھ الحاق کا خاتمہ کیا گیا ۔ سویڈن میں اس کا بہت شدید ردِّعمل ہؤا اور ناروے اور سویڈن کے درمیان تقریبا ً جنگ شروع ہو گئی۔ اسی سال دو مرتبہ ریفرنڈم میں اس بات کا اظہار کیا گیا کہ سویڈن کے ساتھ یونین ختم ہو گئی ہے اور یہ کہ نئی نارویجن ریاست ایک بادشاہت ہو گی۔
ڈینش شہزادہ کارل کو ناروے کا نیا بادشاہ مْنتخب کیا گیا۔ اس نے نارویجن بادشاہ ہوکن کانام چْنا۔ بادشاہ ہوکن ہفتم 1905ء سے 1957ء میں اپنی وفات تک ناروے کا بادشاہ رہا ۔

بیسویں صدی کا پہلا نصف حصّہ

Vannkraftverk
اُنیسویں صدی (1800) کےاختتام میں ناروے نے پانی سے بجلی بنانی شروع کر دی۔ جس کے نتیجے میں بہت سی صنعتوں کا آغاز ہؤا۔ افرادی قوّت کی طلب میں اضافہ ہؤا اور شہروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ ایک قانون بنایا گیا جس کے مطابق بجلی بنانے کا کام نجی ملکیّت میں تھا لیکن پن بجلی کے وسائل سرکاری ملکیّت میں رہے۔

1918ء – 1914ء کےعرصے میں یورپ میں پہلی عالمی جنگ کا زمانہ تھا۔ ناروے اس جنگ میں شامل نہیں تھا، لیکن معاشی اثرات یہاں بھی نمایاں ہوئے ۔ جنگ کے دوران اناج، کافی اور چینی جیسی اشیا‎ ء کی قلّت تھی اس لئے ان اشیا‎ ء کا کوٹہ مقرر کیا گیا۔
1930ء کی دہائی میں یورپ اورشمالی امریکہ میں معاشی بحران تھا۔ بہت سے لوگوں کے روزگار اور مکانات جاتے رہے۔ اگرچہ ناروے میں بہت سے دوسرے ملکوں جیسی بد حالی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ہم “تیسویں دہائی کے کٹھن سالوں” کا ذکر کرتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ 1945ء – 1940ء/ 1939ء

 پارلیمنٹ  پرجرمن  بینر 1945–  1940اوسلو میوزیم ،نا معلوم فوٹو گرافر
دوسری عالمی جنگ کا آغازستمبر 1939ء میں جرمنی کے پولینڈ پر حملے سے ہؤا۔ ناروے پر جرمن فوج نے 9 اپر یل 1940ء کو قبضہ کیا۔
ناروے میں صرف چند روز کی جنگ کے بعد ہی ناروے نے ہتھیار ڈال دئیے۔ بادشاہ اورحکومت انگلینڈ منتقل ہو گئے اور ایک آزاد ناروے کے لئے وہاں سے جنگ جاری رکھی۔ ناروے میں اس وقت ایک جرمن دوست اورغیر جمہوری حکومت قائم ہوئی جس کا سربراہ وِد کْن کوِسلنگ تھا۔

اگرچہ نارویجن سرزمین پر بہت زیادہ جھڑ پیں نہیں ہوئیں تاہم بہت سے مزاحمتی گروہ سبوتاژ کرتے رہے، غیر قانونی اخبارات نکالتے رہے اور سِول نافرمانی منظّم کی اور جرمن قابض طاقت کے خلاف ہلکی پھْلکی جدّو جہد کرتے رہے۔
بہت سے افراد جو مزاحمتی گروہوں میں تھے اْنہیں ملک چھوڑنا پڑا۔ دوسری عالمی جنگ میں تقریبا ً 000 50 نارویجنوں نے سویڈن ہجرت کی۔
شمالی ناروے میں بہت لوگ مارے گئے اور فن مارک اور نوردتھرومس جرمنوں کے کے جانے کے بعد کھنڈرات بن چکے تھے۔ ہٹلر کے حکم پر اکثر عمارات اور بنیادی ڈھانچہ جلا دیا گیا تا کہ سوویت فوج وہاں موجود وسائل کو استعمال نہ کر سکے۔
رفتہ رفتہ جرمنوں کو کئی محاذوں پرشکست ہوئی اور مئی 1945ء کو اْنہیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔ تقریبا ً 9500 نارویجن جنگ میں مارے گئے ۔

ناروے جدید دور میں

En oljeplattform
جنگ کے بعد ملک کو نئے سرے سے تعمیر کی ضرورت تھی۔ اشیا ءکی بہت قلّت تھی اور لوگوں کے لئے رہائشیں کافی نہیں تھیں۔ تعمیرِ نو میں تیزی کے لئے باہمی تعاون اور اتحاد ضروری تھا۔ ریاست نے معیشت اور اس کے تصرّف کا سختی سے انتظام کیا۔

جنگ کے فورا ً بعد ہی اقوامِ مْتحدّہ کا قیام عمل میں آیا۔ اقوامِ مْتحدّہ کا اوّلین مقصد دنیا میں قیام ِ امن اور انصاف کے لئے کام کرنا ہے۔ نومبر 1945ء میں ناروے اس تنظیم میں شامل ہونے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔ اقوامِ مْتحدّہ کا پہلا جنرل سیکرٹری، تھر ِگوے لی نارویجن تھا۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ نےجنگ کے بعد یورپی ممالک کو مدد کی پیشکش کی۔ اس معاشی مدد کو مارشل پلان کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ معاشی مدد لینے والے ملکوں سے کچھ معاشی اور سیاسی مطالبات کا متقاضی بھی تھا۔ ناروے نے ریاستہائے متحدہ امریکہ سے تقریباً تین مِلیاردر کرونر کی امداد وصول کی۔
1949 ء میں ناروے اور گیارہ دوسرے ممالک نے نیٹوکے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس کے نتیجہ میں دفاعی تنظیم NATO نیٹوکا قیام عمل میں آیا۔ مغربی یورپ اور امریکہ کا یہ یہ اتحاد آج تک قائم ہے۔

1950 – اور 1960 کی دہائیوں میں ناروے کی معاشی حالت قدرے بہتر تھی اور ریاست نے شہریوں کی بہتر زندگی کے لئے کئی اصلاحات نافذ کیں۔
انّیس سو ساٹھ کی دہائی میں کئی کمپنیاں ناروے کے ساحل سے تیل اور گیس کی تلاش کرنا چاہتی تھیں ۔ پن بجلی کی طرح تیل کے ذرائع بھی قومی تحویل میں رکھے گئے لیکن نجی کمپنیوں نے تیل تلاش کرنے، کھدائی اور تیل نکالنے کے حقوق کچھ محدود علاقوں اور محدود وقت کے لئے خرید لیے۔ 1969ءمیں شمالی سمندر میں پہلی بار تیل دریافت ہؤا اور تب سے ناروے نے تیل والی قوم کی حیثیت سے ترقی کی اور ناروے وافرتیل برآمد کرنے والے ممالک میں ایک ہے ۔ اس کی نارویجن معیشت کے لیے بہت اہمیت ہے۔

بہت سی بڑی عوامی تحریکوں نےبھی جدید ناروے کی ترقی میں اہم قردار ادا کیا ہے۔ ان میں خاص طور پر مزدور وں کی تحریک اورعورتوں کی تحریک مرکزی رہی ہیں۔ مزدوروں کی تحریک کی جڑ یں 1600ء یعنی سترہویں صدی کے آغاز تک جاتی ہیں۔ لیکن 1880ء کی دہائی میں صنعتوں میں روزگار کے زیادہ مواقع کی وجہ سے تنظیمی عمل اور تیز ہؤا۔ 1920ء کی دہائی سے یہ تحریک اور مؤثّر ہو گئی۔ مزدوروں کی تحریک نےمزدوروں کی بہتری کے لئے بہت جدّوجہد کی ہے جیسے کام کے اوقات میں کمی، کام کی جگہوں پہ تحفظ کی بہتر صورتحال ، بیماری کی انشورنس اور بیروز گاری کی صورت میں معاشی مدد کا حق۔

عورتوں کی تحریک نے معاشرے میں عورتوں کے حقوق ، صنفی برابری اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے لئے جدّو جہد کی ہے۔ طلاق کاحق ،ضبطِ طولید کا حق ، اسقاطِ حمل کا ذاتی فیصلہ اور خواتین کا اپنے جسم پر اختیار جیسے حقوق بھی عورتوں کی تحریک کےاہم مقاصد رہے ہیں۔ 1978 میں حمل کے خاتمہ کے متعلق قانون آیا (اسقاطِ حمل کا قانون)۔ قانون اور باتوں کے علاوہ عورتوں کو حمل کے تیرہویں ہفتے سے پہلے اسقاطِ حمل کا حق دیتا ہے۔ آج تعلیم اور روزگار ، ملکیت اوروراثت، دوا علاج اور اچھی صحت کے لئے عورتوں اور مردوں کے مساوی حقوق ہیں۔

 

حقائق

ناروے آج

ناروے آج ایک جدید جمہوری ملک ہے جس میں بہت اعٰلی فلاحی نظام ہے۔ ناروے میں ا کثر لوگوں کی معاشی حالت اچھی ہے اور لوگوں کی تعلیمی سطح نسبتاً بلند ہے۔ مرد اور عورتیں دونوں روزگار کی زندگی میں شریک ہوتے ہیں۔ معاشرہ ایسے قوانین و قوا عد سے چلایا جاتا ہے جن سے لوگوں کو تعلیم ،صحت اور ضرورت کے مطابق معاشی مدد کا تحفظ دیا جاتا ہے۔

پچھلی دہائیوں میں ٹیکنالوجی اور ڈاٹا کے شعبوں میں بڑی تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ جس سے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو ا ہے، کام کی نوعیت تبد یل ہو گئی ہے اور اکژ لوگوں کی نجی زندگی میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

پچھلی کچھ دہائیوں سے ناروے ایک کثیرالثقافتی اور متنوع معاشرہ بن چکا ہے۔