تارکین وطن کے لئے مختلف خدمات

تارکین وطن کے لئے مختلف خدمات

نئے تارکِ وطن کو ناروے میں مختلف دفاتر اور اداروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ جیسا کہ دفترِ ا ندراج آبادی، نرسری کا دفتر ، مرکز ِ صحت ، ٹیکس کا ادارہ، دفتر ر وزگار و بہبود ۔

ہم یہاں ان میں سے کچھ کا ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ ان مختلف دفاتر کا دائرہ کار کیا ہے اور ان تک رسائی کیسے ممکن ہے۔ اکژ لوگ ان اداروں کے دفاتر میں جاتے
ہیں اور کچھ انٹر نیٹ کے ذریعے ان تک پہنچتے ہیں۔
مختلف اقسام کے فارم بذریعہ نیٹ مل سکتے ہیں اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات بھی نیٹ سے مل جاتی ہیں۔ تمام بلدیات
کا شہریوں کے لئے معلومات کا ایک اپنا نیٹ کا صفحہ ہے۔

ٹیکس کا ادارہ ٹیکس کا ادارہ ٹیکس اور محصولات کی ادائیگیوںکو یقینی بناتا ہے ۔ ناروے میں روزگار کے لیےآپ کو ٹیکس کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلی مرتبہ آپ کو ٹیکس کارڈ کے لیے خود یہاں درخواست دینی ہوتی ہے skatteetaten.no
یہ براہ راست آپ کے آجر کو بھیجا جاتا ہے اور اس میں آپ کی ماہانہ تنخواہ سے ٹیکس کی کتنی کٹوتی ہو گی۔

دفتر اندراجِ آبادی دفتر اندراج آبادی ٹیکس کے ادارے کا ہی ایک حصّہ ہے۔ یہاں ناروے میں قیام پذیر اور پہلے رہ چکے تمام افرد کا سرکاری ریکارڈ ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص رہائش تبدیل کرتا ہے تو اسے آٹھ دنوں کے اندر اس کی اطلاع دفتر اندراجِ آبادی کو لازمی کرنی ہوتی ہے۔یہ نیٹ کے ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔

دفتر اندراجِ آبادی نام کی تبد یلی، تاریخ پیدائش کا نمبر اور ڈی نمبر دینے کا ذمہ دار بھی ہے۔ اگر آپ شادی کرنا چاہیں تو آپ کودفتر اندراجِ آبادی سے رابطہ کرنا ہوگا۔  

ناو NAV دفتر روزگار و بہبود یہ ایک سرکاری /عوامی ادارہ ہے جو مختلف خدمات بہم پہنچاتا ہے۔ ناو کی کْچھ ذمہ داریاں درج ذیل ہیں

  • بچوں کا وظیفہ
  • مالی مدد
  • بیماری کا الاؤنس
  • بے روزگاری الاؤنس
  • معذوری الاؤنس
  • پنشن

ناو بے روزگار لوگوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ کئی لوگ ایسے کورس کرتے ہیں جن کی ادائیگی ناو کرتا ہے اور ان کورسوں کا مقصد لوگوں کو روزگار کے حصول میں مدد دینا ہے۔

مترجم کا حق
جب تک غیر ملکی نوشک زبان نہیں سیکھ لیتے ، مترجم کے استعمال کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ دفتر روزگار و بہبود، پولیس اور محکمہ صحت کے ملازمین اس بات کو یقینی بنانے کے پابند ہیں کہ معلومات اور رہنمائی متعلقہ افراد سمجھ رہے ہوں۔ اس لئے تارکین وطن مترجم کا حق رکھتے ہیں اور متعلقہ سرکاری ادارے ہی اس کی ادائیگی کرتے ہیں۔